نئی دہلی،28؍جنوری(ایس او نیوز؍یو این آئی) سپریم کورٹ نے جمعرات کو مرکزی حکومت کے حلف نامہ پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے دریافت کیا کہ یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) کے امیدواروں کو فاضل موقع نہیں دینے کے سلسلہ میں فیصلہ کس سطح پر کیا گیا ہے۔
جج اے ایم خانولکر کی صدارت والی بنچ نے مرکز کو پھر حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ اس معاملہ پر جمعہ کو پھر سماعت ہوگی۔
عدالت عظمی نے یو پی ایس سی کے امیدواروں کی طرف سے دائر ایک عرضی پر سماعت کی۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ چار اکتوبر 2020 کو ہونے والے انکے پریلمنری ایکزام کی تیاریاں کورونا وائرس وبا کی وجہ سے متاثر ہوئی تھی۔ عرضی گزار سول سروس امتحان کیلئے ایک اور موقع دینے کی مانگ کررہے ہیں۔
عرضی گزاروں کی طرف سے پیش سینئر وکیل سی یو سنگھ نے کہاکہ طلبا کورونا وائرس کی وجہ سے غیریقینی کے ماحول میں اپنے امتحانات کی تیاری نہیں کرسکے اور بغیر تیاری کے ہی امتحان میں بیٹھنے پر مجبور ہوئے۔ جج کھانولکر نے ایڈیشنل سالسٹر جنرل ایس وی راجو سے کہاکہ حلف نامہ سے واضح نہیں ہورہا ہے کہ کس سطح پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
جج کھانولکر نے کہاکہ اسے اعلی سطح پر لیا جانا چاہئے تھا۔ یہ ایک پالیسی فیصلہ ہے اور ایک بار چھوٹ دینے سے متعلق ہے۔ یہ ایک باقاعدہ حلف نامہ کی طرح ہے۔کیا یہ مناسب طریقہ ہے۔ آپ کو کچھ ایسا پیش کرنا چاہئے جو پیش کرنے کے قابل ہو اور اسے پھر سے پیش کریں۔